کاراکاس پہنچنے کے بعد صدر ایران اپنے ہم منصب نیکولس مادورو سے ملاقات کے علاوہ وینیزویلا کے اسپیکر سے بھی ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ سفر کے دوران مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخط بھی ہوں گے۔
کاراکاس روانہ ہونے سے قبل تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایران نے کہا کہ یہ سفر لاطینی امریکہ کے تین دوست ممالک وینیزویلا، نیکاراگوئا اور کیوبا کے سربراہوں کی دعوت پر انجام پا رہا ہے۔
سید ابراہیم رئیسی کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے تسلط پسند نظام سے مقابلے کا جذبہ مشترکہ طور پر ایران اور مذکورہ تین ممالک کے درمیان پایا جاتا ہے۔ صدر رئیسی نے لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کو اسٹریٹیجک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت اور اقتصاد کے شعبے میں ایران اور لاطینی امریکہ کے یہ تین ممالک مل کر کام کر رہے ہیں اور اس سفر سے آپسی روابط کے کو مزید استحکام اور فروغ حاصل ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242